تشبیہ قریب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ تشبیہ جس میں وجہ شبہ واضح ہو۔ "بعض تشبیہ ایسی ہوتی ہے کہ وجہ شبہ اس میں جلد سمجھ میں آجاتی ہے اس کو تشبیہِ قریب کہتے ہیں ایسی تشبیہ متبذل ہوتی ہے۔"      ( ١٨٨١ء، بحرالفصاحت، ٧٨٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مرکب توصیفی ہے لفظ 'تشبیہ' کے ساتھ عربی زبان سے ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل 'قَرِیب' بطور صفت لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٨١ء کو "بحرالفصاحت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ تشبیہ جس میں وجہ شبہ واضح ہو۔ "بعض تشبیہ ایسی ہوتی ہے کہ وجہ شبہ اس میں جلد سمجھ میں آجاتی ہے اس کو تشبیہِ قریب کہتے ہیں ایسی تشبیہ متبذل ہوتی ہے۔"      ( ١٨٨١ء، بحرالفصاحت، ٧٨٧ )

جنس: مؤنث